گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

Must read

اگر پروین شاکر زندہ ہوتی!

مالک اشتر پروین شاکر اگر زندہ ہوتی تو آج اپنی سالگرہ منا رہی ہوتی۔ اس کی عمر...

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے خاطر غزنوی گو ذرا...

کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتا

کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتاعدیم ہاشمیکسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتامجھے گھر کاغذی پھولوں...

اردر کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ ماہ لقا چندا کی ایک خوبصورت ‏غزل

غزل (چندا کا مقبرہ اور مسجد) نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار...

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

خاطر غزنوی

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

گرمئ محفل فقط اک نعرۂ مستانہ ہے

اور وہ خوش ہیں کہ اس محفل سے دیوانے گئے

میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں

مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے

وحشتیں کچھ اس طرح اپنا مقدر بن گئیں

ہم جہاں پہنچے ہمارے ساتھ ویرانے گئے

یوں تو وہ میری رگ جاں سے بھی تھے نزدیک تر

آنسوؤں کی دھند میں لیکن نہ پہچانے گئے

اب بھی ان یادوں کی خوشبو ذہن میں محفوظ ہے

بارہا ہم جن سے گلزاروں کو مہکانے گئے

کیا قیامت ہے کہ خاطرؔ کشتۂ شب تھے بھی ہم

صبح بھی آئی تو مجرم ہم ہی گردانے گئے

اردو کلاسک کے شکریہ کے ساتھ

More articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Latest article

اگر پروین شاکر زندہ ہوتی!

مالک اشتر پروین شاکر اگر زندہ ہوتی تو آج اپنی سالگرہ منا رہی ہوتی۔ اس کی عمر...

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے خاطر غزنوی گو ذرا...

کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتا

کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتاعدیم ہاشمیکسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتامجھے گھر کاغذی پھولوں...

اردر کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ ماہ لقا چندا کی ایک خوبصورت ‏غزل

غزل (چندا کا مقبرہ اور مسجد) نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار...

اوم پرکاش بالمیکی: دلت ساہتیہ کے ایک نامور ادیب

(ہندی زبان ہماری قومی زبان ہے اس لیے مسلم آف انڈیا نے اس کے نامورادیبوں اور شاعروں کے تعارف کا ایک سلسلہ...
%d bloggers like this: