گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

Must read

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

خاطر غزنوی

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

گرمئ محفل فقط اک نعرۂ مستانہ ہے

اور وہ خوش ہیں کہ اس محفل سے دیوانے گئے

میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں

مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے

وحشتیں کچھ اس طرح اپنا مقدر بن گئیں

ہم جہاں پہنچے ہمارے ساتھ ویرانے گئے

یوں تو وہ میری رگ جاں سے بھی تھے نزدیک تر

آنسوؤں کی دھند میں لیکن نہ پہچانے گئے

اب بھی ان یادوں کی خوشبو ذہن میں محفوظ ہے

بارہا ہم جن سے گلزاروں کو مہکانے گئے

کیا قیامت ہے کہ خاطرؔ کشتۂ شب تھے بھی ہم

صبح بھی آئی تو مجرم ہم ہی گردانے گئے

اردو کلاسک کے شکریہ کے ساتھ

More articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Latest article

%d bloggers like this: