اردر کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ ماہ لقا چندا کی ایک خوبصورت ‏غزل

Must read

غزل

(چندا کا مقبرہ اور مسجد)

نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلب

رکھا چشم نظر شبنم میں اپنے یار سے مطلب

یہ دل دام نگہ میں ترک کے بس جا ہی اٹکا ہے

بر آوے کس طرح اللہ اب خوں خوار سے مطلب

بجز حق کے نہیں ہے غیر سے ہرگز توقع کچھ

مگر دنیا کے لوگوں میں مجھے ہے پیار سے مطلب

نہ سمجھا ہم کو تو نے یار ایسی جاں فشانی پر

بھلا پاویں گے اے ناداں کسی ہشیار سے مطلب

نہ چنداؔ کو طمع جنت کی نے خوف جہنم ہے

رہے ہے دو جہاں میں حیدر کرار سے مطلب

More articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Latest article

%d bloggers like this: