بنگال کے مسلمان: تاریک شب میں اجالے کی تلاش

Must read

ان دنوں میں دنیا بھرمیں قدامت پسندی پر مبنی نظریات کےرجحان میں اضافہ ہوا ہے اور دائیں بازوں کی سیاسی جماعتوں کا عروج ہوا ہے،فرانس، پولینڈ، برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک بھی ان رجحانات کی زد میں ہے ۔لبرل ازم، احترام انسانیت اور آزادی کی دعویدار کی حامل ممالک کی شناخت خطرے میں ہے ۔گرچہ امریکی عوام نے ٹرمپ کے دائیں بازوں اور نسل پرستانہ رجحانات کو شکست دے کر جوبائیڈن کے لبرل اور آزادانہ خیالات کو فوقیت دی ہے مگر ٹرمپ کی شکست کے نتیجے میں امریکہ میں جو کچھ ہوا وہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امریکی معاشرہ بھی دائیں بازوں کے نظریات اور انتہاپسندی سے متاثر ہوچکا ہے ۔چناں چہ جن ملکوں میں انتہا پسندی پر مبنی نظریات کے رجحان میں اضافہ اور دائیں بازوں کی جماعتوں کا عروج ہوا ہے ان ملکوں میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا اقلیتوں کو ہے ۔اقلیتوں کے حقوق اور ان کی شناخت خطرے میں ہے ۔

ہندوستانی تناظر میں دیکھا جائے تو آج ملک کی یہی صورت حال ہے۔ دائیں بازوں کی جماعتوں کی طاقت میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ جمہوریت کے راستے اقتدار میں آنے والی حکمراں جماعت کی سرپرستی اور حمایت کی وجہ اقلیتوں بالخصوص سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کےلئے مشکلات کھڑی کی جارہی ہیں ، کھلے عام مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔میڈیاکے ذریعہ مسلمانوں کی کردار کشی کی جارہی ہے اور جولوگ مسلمانوں کے حق کی بات کرتے ہیں ان کے خلاف اس قدر پروپیگنڈہ کیا جارہاہے کہ حمایت کرنے والے افراد خوف زدہ ہوجاتے ہیں ۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ حالات کیوں پیدا ہوگئے؟۔کیا دائیں بازوں کی جماعتوں کا عروج سیکولر اور لبرجماعت کی دعویدار سیاسی جماعتوں کی نظریاتی بحران کا نتیجہ تو نہیں ہے ؟ ان سب میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب اس طرح کے حالات پیدا ہوجائیں تو اقلیتوں کی ترجیحات کیا ہونی چاہیے ؟۔شناخت کی بقا پر ہی انحصار کیا جائے یا پھرشناخت کے ساتھ یکساں مواقع اور حقوق کی بازیابی پر توجہ دی جائے؟یہ سوالات انتہائی اہم ہیں ۔مشہور صحافی نور اللہ جاوید نے اپنی کتاب ’’بنگال کے مسلمان‘‘ میں انہی سوالوں کے جوابات کو بنگال کی سیاسی تناطر میں دینے کی کوشش کی ہے ۔

یہ کتاب ایک ایسے وقت میں منظر عا م پر آئی ہے کہ جب اقلیتوں کےلئے ’’شناخت ‘‘ کے مسئلہ کو انتہائی اہم بنادیا ہے۔ایک طرف ایک سیاسی قوت مسلمانوں کی شناخت پر مسلسل حملہ کررہے تو دوسری طر وہ لوگ ہیں جو شناحت عطاکرنے کے نام پر مسلمانوں کا استحصال کررہے ہیں۔ ۔مسلمانوں کے متبادل کے آپشن کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اسی سیاست کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں حقوق اور یکساں مواقع جیسے اہم موضوع پس پشت چلا گیا ہے ۔مگر نور اللہ جاوید نے اپنی اس کتاب میں مسلمانوں کی شناخت کے تحفظ کے ایشوز کو اٹھاتے ہوئے سیکولر سیاسی جماعتوں کی کارستانیوں کا پردہ چاک کیا ہے کہ اگر دائیں بازوں کی جماعتوں نے مسلمانوں کےلئے شناخت کے مسئلے کو کھڑا کردیا ہے تو نام نہاد سیکولر جماعتوں نے بھی مسلمانوں کے ساتھ کوئی انصاف نہیں کیا ہے ۔بلکہ مسلمانوں کے نام پرسیاسی دوکان توخوب چمکائی گئی ہے مگر مسلمانوں کو حقوق اور مواقع فراہم کرنے کی طرف توجہ نہیں دی گئی ہے۔سیاسی جماعتوں نے شعوری طور پر یہ کوشش کی ہے کہ مسلمانوں کےلئے ’’شناخت‘’ کے مسئلے کو اتنا اہم بنادیا جائے کہ وہ حقو ق اور مواقع جیسے موضوع پر بات ہی نہ کرے۔

’’بنگال کے مسلمان ‘‘ مصنف کی بے باکی، ہمت و جرأت اور صاف گوئی کی آئینہ دار ہے ۔ا نہوں نے غیر جانبداری کے ساتھ بنگال کے مسلمانوں کے حالات کا تجزیہ کیا ہے ۔ بالخصوص تعلیمی، معاشی اور سماجی صورت حال پر مختلف رپورٹوں کے حوالے سے موجودہ صورت حال پر روشی ڈالتے ہوئے مسلمانوں کو غو روفکر کی دعوت دی ہے ۔

اقلیتوں و فلاح بہبود کےلئے قائم سرکاری، امداد یافتہ اور ملی اداروں کی زبوں حالی پر بھی انہوں نے بے باک انداز میں روشنی ڈالی ہے ۔عالیہ یونیورسٹی ، اردو میڈیم اسکولس، مغربی بنگال اردو اکیڈمی ، کلکتہ یونانی میڈیکل کالج اور ملی الامین کالج سے متعلق تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ان اداروں کی بربادی کے اسباب پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسلم ادارے سیاست اور سیالیڈروں کی آماجگاہ بن گئے ہیں ۔ان اداروں کا سیاسی کرن اس قدرکردیا گیا ہے کہ یہ ادارے اپنی افادیت سے محروم ہوگئے ہیں ؟ ان اداروں کےلئے مختص فنڈ میں بے ضابطگی پر بھی انہوں نے محاسبہ کیاہے۔

نور اللہ جاوید نے ’’کلکتہ کی اردوا شرافیہ اور بنگالی مسلمانوں کا شعور‘‘ کے عنوان سے کلکتہ کی اردو آبادی سے متعلق تجزئیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہندوستان کی آزادی سے قبل کلکتہ کی اردو اشرافیہ باشعور تھی اور چناں چہ ایک صدی قبل ہی مسلم بچیوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے انجمن مفید الاسلام جیسا ادارہ قائم کیا۔اس کے تحت تین اسکول قائم کئے گئے مگر آج صورت حال یہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے 70سال بعد بھی مسلمانو ں نے تعلیمی ادارے کے قیام کی طرف کچھ خاص توجہ نہیں دی۔اس درمیان ایک دو جو ادارے قائم ہوئے وہ آج بھی اپنے وجود کی بقا کےلئے جدو جہد کررہے ہیں ۔انہوں نے ملی الامین کالج اور کلکتہ یونانی میڈیکل کالج کی صورت حال کی طرف روشنی ڈالی ہے ۔

مسلمانوں کی تعلیمی ، معاشی ،سماجی مسائل اور ملی اداروں کی صورت حال پر تجزئیہ کرنے کے ساتھ اس کتاب میں بنگال کے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے پر بھی انہوں روشنی ڈالی ہے کہ آج بنگال فرقہ پرستوں کے نرغے میں کس طرح پہنچ گیا ہے ۔اس کے لئے ذمہ دار کون ہے اور کیا اس کےلئے ممتا بنرجی واحد ذمہ دار لیڈر ہیں ۔انہوں نے آر ایس ایس کے عروج کی داستان لکھتے ہوئے بتایا ہے کہ آر ایس ایس نے جس طریقے سے بنگال میں تنتر پھیلا ہے اس سے مستقبل میں مسلمانوں کےلئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔نور اللہ جاوید نے مختلف صحافی کی رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ قبائلیوں اور پسماندہ طبقات کے ذہن و دماغ میں مسلمانوں کے تئیں نفرت آلود کردیا ہے کہ ایک معمولی سی چنگاری بھی بھیانک شکل اختیار کرسکتی ہے۔ اس طرح یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ کتاب تاریکی میں روشنی کی تلاش ہے، اردو میں عام طور پر اس طرح کے موضوعات پر کتابیں نہیں لکھی جاتی ہیں ۔اردو زبان میں مذہبی کتابوں کے علاوہ زبان و ادب میں ہی کتابیں شائع ہوتی ہے ۔چناں چہ یہ نور اللہ جاوید کی ہمت ہے کہ انہوں نے لیک سے ہٹ کر الگ موضوع پرقلم اٹھانے کی جرأت کی ہے اور جھے یقین ہے کہ یہ کتاب مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا

کرے گی ۔

ناہید اختر

More articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Latest article

%d bloggers like this: